27 ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی کا انکشاف
بزنس صحت کھیل کینیڈا

27 ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی کا انکشاف

نومبر 12, 2025

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2025ء) 27 ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ترمیم ممکنہ طور پر دوبارہ سینیٹ بھیجی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم میں تکنیکی غلطی رہ گئی تھی، جس کے باعث قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد 27 ویں آئینی ترمیم واپس سینیٹ میں جانے کا امکان ہے اور ممکنہ طور پر کل سینیٹ سے 27 ویں آئینی ترمیم کی دوبارہ منظوری لی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل میں اچانک مزید ترامیم شامل کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 27ویں آئینی ترمیم میں اضافی ترامیم قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی، اس حوالے سے حکومت اور اپوزیشن کی اضافی ترامیم الگ فہرست میں موجود ہیں، قومی اسمبلی سے اضافی ترامیم کی منظوری پر بل کو دوبارہ سینیٹ کو بھجوایا جائے گا، سینیٹ اجلاس کا شیڈول بھی تبدیل کردیا گیا اور یہ اجلاس ایک روز قبل طلب کیا گیا ہے، جس کے باعث اب سینیٹ اجلاس آج شام پانچ بجے بلا لیا گیا، جب کہ حکومتی ذرائع نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم لائے جانے کی تصدیق کی ہے، اپوزیشن کی گیارہ ترامیم بھی ایجنڈے میں شامل ہیں، حکومت اضافی ترمیم کی منظوری کابینہ سے لےگی اِسی لئے کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی بلایا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج دوبارہ ہورہا ہے، جس میں 27 ویں آئینی ترمیم آج منظور ہونے کا قوی امکان ہے جہاں 27 ویں آئینی ترمیم پر گزشتہ روز سے بحث جاری ہے، اجلاس میں 27 ویں آئینی ترمیم کے بل کی آج شق وار منظوری دی جائے گی، یہ بل گزشتہ روز ایوانِ زیریں میں پیش کیا گیا تھا، حکومت کو ترمیم منظور کرانے کیلئے 224 ووٹ درکار ہیں اور حکومت کے پاس 237 ارکان کی حمایت موجود ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف بھی آج قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کریں گے، نواز شریف 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ کریں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت جلد از جلد وفاقی آئینی عدالت قائم کرنے کی خواہش مند ہے، اس سلسلے میں آئینی ترمیم پر صدر مملکت کے دستخط ہوتے ہی وفاقی آئینی عدالت کے قیام کیلئے عملی اقدامات شروع کیے جا ئیں گے، آج قومی اسمبلی سے بل منظور ہونے کی صورت میں کل جمعرات کے روز وفاقی آئینی عدالت کے ججز سے حلف بھی لیے جا سکتے ہیں جس کے ساتھ ہی وفاقی آئینی عدالت عملی طور پر قائم ہو جائے گی۔

اس خبر کو شیئر کریں:

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے