طالبان رجیم کے ساتھ مذاکرات میں کوئی راستہ نہیں نکلتا تو پھر جنگ کے سواکوئی آپشن نہیں
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 11 نومبر 2025ء ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان رجیم کے ساتھ مذاکرات میں کوئی راستہ نہیں نکلتا تو پھر جنگ کے سواکوئی آپشن نہیں، دوست ممالک مذاکرات چاہتے ہیں، ان کی آپشن کو ٹال نہیں سکتے۔ انہوں نے اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وانا اور کچہری حملے کی ٹائمنگ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سرزمین پر خون کیا جارہا ہے تو پھر افغان طالبان رجیم کو بھی جواب ملنا چاہیئے، وزیراعظم اور عسکری قیادت جو بھی فیصلہ کریں گے اس کے مطابق چلیں گے۔ جب ترکیہ، قطر اور ایران نے دوبارہ مذاکرات کی بات کی تو اس کے بعد یہ واقعے ہوئے، دونوں واقعات کے بعد فوری ردعمل دینا فطری بنتا ہے۔ آج واقعے کے بعد طالبان رجیم سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی، لیکن ترکیہ، قطر اور ایران نے ظاہر کیا کہ دوبارہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔ ہم دوست ممالک کی آپشن کو ٹال نہیں سکتے ورنہ جنگ کی آپشن موجود ہے، طالبان رجیم ہمیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں،افغان شہریوں کی ہم نے چالیس سال تک میزبانی کی اور پناہ دی۔ یہ درست ہے کہ بات چیت کی گنجائش بالکل نہیں رہ گئی، دوست ممالک کا افغانستان میں اثررسوخ ہے وہ اس کو استعمال کریں گے۔ مذاکرات میں کوئی راستہ نہیں نکلتا تو پھر جنگ کے علاوہ کے کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ مودی پر کبھی یقین نہیں کیا جاسکتا وہ دوبارہ فالس فلیگ کرسکتا ہے، مودی اب کوئی جارحیت کرے گا تو اس کو جواب کا حساب کتاب بھی لگا لینا چاہئے۔ مزید برآں وزیردفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں کوئی یہ سمجھے کہ پاک فوج یہ جنگ افغان پاکستان سرحدی علاقے میں اور بلوچستان کے دور دراز علاقے میں لڑرہی ہے تو آج اسلام آباد ضلع کچہری میں خود کش حملہ wake up call ھے کہ یہ سارے پاکستان کی جنگ ہے جسمیں پاک فوج روز قربانیاں دے رہی ہے اور عوام کو تحفظ کا احساس دلا رہی ہے۔ اس ماحول میں کابل حکمرانوں سے کامیاب مذاکرات سے زیادہ امید رکھنا عبث ھو گا۔ کابل حکمران پاکستان میں دھشت گردی کو روک سکتے ھیں لیکن اسلام آباد تک اس جنگ کو لانا کابل سے ایک پیغام ھے جسکا پاکستان بھر پور جواب دینے کی الحمدوللہ قوت رکھتا ھے ۔ مزید برآں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ 80 کی دہائی میں اسلامائزیشن کا بخار دین کیلئے نہیں امریکا کیلئے تھا۔ قومی اسمبلی اجلاس میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس ملک میں افغان جہاد لڑنے کے لیے تعلیمی نصاب تبدیل کیا گیا، آپ کا نصاب یونیورسٹی آف نبراسکا سے بن کر آیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایک بندہ گوادر، چترال ،حیدرآباد اور لاہور میں پڑھ رہا ہے، ان میں کچھ مشترک نہیں، اس نصاب کی وجہ سے مذہبی شدت پسندی آئی، اسلام آباد میں دو تین ہزار مدرسے تھے اب ہزاروں ہیں، مدرسے قبضے کی زمینوں پر بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو فوجی ڈکٹیٹرز نے استعمال کیا، سب سے پہلے ایوب خان نے اسے استعمال کیا، ہم ایم این اے اپنی طاقت دینا نہیں چاہتے، ہم جمہوریت جمہوریت کہتے ہیں لیکن اس پر یقین نہیں کرتے۔خواجہ آصف نے کہا کہ جب ٹیکس اکٹھا ہوگا تو لوکل گورنمنٹ کے پاس وسائل آجائیں گے، لوکل گورنمنٹ آپ کا مقامی اسپتال اور اسکول چلائیں گے، پارلیمنٹ کو ان باتوں پر مشترکہ اسٹینڈ لینا چاہیے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے قومی تشخص پر روزانہ حملے ہو رہے ہیں، یہ چیزیں ہمیں نقصان پہنچائیں گی۔
