اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2025ء) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خود کش دھماکے کا مقدمہ تھانہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) میں درج کرلیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ سرکار کی مدعیت میں نمبر 10/25 کے تحت انسداد دہشتگردی ایکٹ کے مختلف سیکشنز میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدامِ قتل و دیگر سنگین نوعیت کی دفعات شامل کی گئی ہیں، ایف آئی آر کے متن میں شہداء اور زخمیوں کی تفصیلات بھی درج ہیں، مقدمے میں دھماکے کے باعث پیدا ہونے والے خوف و ہراس اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کو فرانزک ٹیموں کے حوالے کر دیا گیا ہے، حکومت نے اسلام آباد اور وانا واقعے کے ٹھوس شواہد بین الاقوامی فورمز پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حال ہی میں بھارت اور افغانستان سے جنگیں جیتی ہیں، ہمارا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور افغانستان سے دہشت گردوں کی سہولت کاری بند ہو، اسلام آباد اور وانا واقعے کی تحقیقات ہوں گی، اس کے ٹھوس شواہد دوست ممالک اوربین الاقوامی فورمز کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے، دہشت گرد واقعات کے مزید شواہد کے بعد لائحہ عمل بنایاجائے گا اور جو بھی ان واقعات میں ملوث ہوا اس کو دنیا کے سامنے بےنقاب کریں گے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد کچہری دھماکے میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی میتیں ورثاء کے سپرد کردی گئی ہیں، میتیں پوسٹ مارٹم اور ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثاء کو دی گئیں، اسلام آباد کچہری دھماکے کے 13 زخمی پمز میں زیر علاج ہیں جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے، مجموعی طور پر 36 زخمیوں کو پمز ہسپتال لایا گیا تھا، پمز انتظامیہ نے وکیل زبیر اسلم گھمن کی میت بھی ورثاء کے حوالے کردی۔