اسلام آباد کچہری خود کش حملہ جس نے بھی کرایا اسے بھگتنا پڑے گا، وزیرداخلہ
انٹر نیشنل انٹرٹینمنٹ کھیل کینیڈا

اسلام آباد کچہری خود کش حملہ جس نے بھی کرایا اسے بھگتنا پڑے گا، وزیرداخلہ

ستمبر 25, 2022

اسلام اباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 نومبر2025ء) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کچہری میں جانے کی کوشش کر رہا تھا، موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا، اسلام آباد کچہری خود کش حملہ جس نے بھی کرایا اسے بھگتنا پڑے گا، تمام شواہد جلد سامنے لائے جائیں گے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج 12 بجکر 39 منٹ پر خود کش حملہ ہوا، 12 لوگ شہید 27 زخمی ہیں، وزیر اعظم نے زخمیوں کے فوری علاج ہدایت کی، خود کش حملہ آور کچہری کے اندر جانے کا پلان کر رہا تھا، موقع نہ ملنے پر پولیس کی گاڑی پر حملہ کیا، پہلی ترجیح میں خودکش حملہ آور کی شناخت کریں گے، جس نے کچہری واقعہ کیا اسے بھگتنا پڑے گا، کچہری حملے میں ملوث کرداروں کو بھی سامنے لایا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کل وانا میں بھی گاڑی سوار خود کش حملہ آور انٹری پوائنٹ پر پھٹا وہاں بھی علاقے کی کلیئرنس جاری ہے، وانا اٹیک میں افغانستان ملوث ہے افغانستان میں کمیونیکیشن ہوتی رہی، ہمیں اندازہ ہے کہ افغانستان کیا کررہا ہے مگر سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، افغانستان کو شواہد دیئے ہیں کہ کیسے لوگ وہاں ٹریننگ کر رہے ہیں اور اس کے بعد حملے ہوتے ہیں، افغانستان کے شر پسند عناصر کو نہ روکنے پر کوئی چارہ نہیں کہ ان کا بندوبست کریں۔خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کچہری کے مرکزی گیٹ کے باہر دھماکہ ہوا، دھماکے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے جی الیون سیکٹر اسلام آباد کی کچہری کے نزدیک کھڑی گاڑی میں زور دار دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی، دھماکے سے گاڑی میں آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں، دھماکے کے باعث لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا، دھماکے کے بعد اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس سے افسوسناک مناظر دیکھے گئے جہاں دھماکے کی آوازیں سنائی دینے کے بعد دھویں کے بادل اڑتے دکھائی دیئے، دھماکے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، دھماکے میں وکلاء بھی زخمی ہوئے۔

 

اس خبر کو شیئر کریں:

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے